پہاڑی وعظ کا پس منظر ۱

181. یسوع کی تعلیمات کا تعارف پہاڑی واعظ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پہاڑی وعظ کا پس منظر ۲

182. یسوع کی تعلیمات کا تعارف پہاڑی واعظ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

میں نہیں کرسکتا مگر خدا کرسکتا ہے

183. پہلی مبارکبادی ہے،"مبارک ہیں وہ جودِل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔ْْ‘‘﴿متّی5:3﴾

تسلی دینے والے خدامآرام و سکون کا نسخہ

184. دوسرا بے حد بابرکت رویہ ہے"مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائینگے۔"﴿متّی5:4﴾ 185. اگلا بے حد بابرکت رویہ جوکہ یسوع ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اُس کے متعلق ہے جوکہ ہم چاہتے ہیں:"مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہونگے۔ْ"حلیمی کی

استثنائی راستبازی

186. چوتھا بے حد بابرکت رویہ ہے ،"مبارک ہیں وہ جو راست بازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہونگے۔" ﴿متّی5:6﴾

محبت کے چینلزآلائش سے پاک دل

187. پانچواں بے حد بابرکت رویہ ہے،"مبارک ہیں وہ جو رِحم دل ہیں کیونکہ اُن پر رِحم کیا جائے گا۔" ﴿7﴾ لفظ ’’رحم‘‘ سے مراد "غیر مشروط محبت" ہے۔188۔ ہماری محبت کے پیچھے اکثر خود غرضی ہوتی ہے۔ اس لئے اگلی مبارکبادی میں مرقوم ہے۔"مبارک ہیں جو صاف دل ہیں کیونک

تجدید تعلقات کروانے والے خدام

189۔ ساتویں مبارکبادی ہے: "مبارک ہیں جو صلح کرواتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔" اس مبارکبادی کا بنیادی جز یہ ہے کہ وہ شاگرد جو حل اور مسیح کا جواب ہے وہ تجدید تعلقات کروانے والا خادم ہے۔"

اذیت اٹھانے والے امن کارکن وعدے وعدے

190۔ "مبارک ہیں جو راستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں ان اکا اجر آسمان کی بادشاہی ہے۔" میں نے کہا تھا کہ یہ مبارکبادیاں دو دو کے جوڑے کی صورت میں ہیں اور ایسا ہی ہے۔ ساتویں کا جوڑا آٹھویں کے ساتھ بنایا جاسکتا ہے۔191 اس خطبے کا پس منظر متی رسول کا وہ بحرانی و

کردار اور تہذیب

192۔ یسوع مسیح نے چار بہت گہرے استعاروں کے ساتھ اپنے مسیحا جیسے کردار والے شخصی خاکے پر کام کیا جو ہمیں دکھاتا ہے کہ مسیح کے دکھایا ہوا کردار بت پرست تہذیب میں اثرات چھوڑے تو کیا ہوتا ہے۔

نمک اور نور

193۔ ان چار استعاروں کے ذریعے یسوع مسیح اس عظیم خطبے کا اطلاقی حصہ شروع کرتا ہے۔ پہلا استعارہ یہ ہے کہ ایسے رویے والا شاگرد زمین کا نمک ہے۔ اصل زبان میں لفظی طور پر لکھا ہے "صرف اور صرف تم زمین کا نمک ہو۔"

خدا کا قانون اور انسانوں کی زندگیاں

194۔ "کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں، جب تک تمہاری راستبازی فقیہوں اور فریسیوں سے بڑھ نہ جائے تم کسی صورت آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہوسکو گے۔" [5:17-20]